• Abbas

امام حسین (ع) نے مدینۂ منورہ سے مکۂ معظمہ کا سفر کیوں کیا


امام حسین (ع) نے مدینۂ منورہ سے مکۂ معظمہ کا سفر کیوں کیا ؟ اگر جنگ مقصود تھی تو اہل حرم کو ساتھ کیوں لے گئے ؟سنہ 61 ہجری میں جس وقت اسلامی دنیا پر شام کی سیاہی پوری طرح چھاگئی مذہب اسلام کا چراغ فسق و فجور کی طوفانی ہواؤں سے جھلملانے لگا توحید و رسالت کی کشتی ملوکیت و سلطنت کے تھپیڑوں سے ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ضرورت تھی کہ کوئی حق و صداقت کی پتوار لے کر اٹھے اور اپنے اور اپنے خاندان کے خون میں ڈوب کر اسلام و ایمان کی کشتی کو ساحل نجات تک پہنچائے اور ایثار و شہادت کے فانوس میں حریت و آزادی کا چراغ اس طرح محفوظ کردے کہ ظلم و بربریت کے جھکڑ قیامت تک اسے خاموش نہ کرسکیں ۔

رسول اسلام (ص) کے نواسے علی (ع) و فاطمہ( س) کے چشم و چراغ، حسن (ع) کے قوت بازو امام حسین (ع) کے سوا کون تھا جو اپنے الہی فریضہ کا احساس کرتے ہوئے خاندان نبوت و رسالت کی جان ، مال اور آبرو کو جوکھم میں ڈال کر ملت اسلامیہ کی حفاظت و پاسبانی کابیڑا اٹھاتا اور صحرائے کربلا میں قربانی کے لئے تیار ہوجاتا ۔شام ، عراق ، مصر ، حجاز ، فارس اور یمن کون تھا جو ابوسفیان کے پوتے یزید بےحیا کے انسانیت سوز حرکات و افعال سے واقف نہ ہو مگر زر و سیم کے بندوں اور مکر و فریب کے تودوں کی غیرت و حمیت ان سے خیر باد کہکر رخصت ہوچکی تھی اور شام کا بے حیا گلہ بان اقتدار کی چھڑی ہاتھ میں لئے ایک جمعیت کو " لاخبر جاء و لا و حی نزلا" " کے نعرے لگا کر جہنم کی طرف ہانک رہا تھا ایسے میں فرض شناس و حق آگاہ حسین (ع) ابن علی (ع) نے اسلام و مسلمین کی نجات کے لئے ایک انقلاب ضروری سمجھا انقلاب یعنی امت کی اصلاح ،انقلاب یعنی نبی (ص) و علی (ع) کی تعلیمات کا احیاء ،انقلاب یعنی اسلام کی تجدید حیات امیر شام کے فرزند کی بیعت سے انکار کو بہانہ بنا کر نواسۂ رسول (ص) نے مدینۂ منورہ سے ہجرت اختیار کی نانا کے روضے ، ماں کے مزار اور بھائي کی لحد سے رخصت ہوئے نانی ام سلمہ (رض) اور ماں ام البنین (رض) کو آخری سلام کیا بھائي محمد حنفیہ (رض) اور بہنوئي عبداللہ ابن جعفر (رض) کو اہل مدینہ کی حفاظت و پاسبانی پر مامور کیا اور اہل خاندان کے ساتھ مکۂ معظمہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔جذبات و احساسات کے دھنی اہل حرم اور ثبات و استقامت کے پیکر اعزۂ و اصحاب نے آپ کی معیت اختیار کی ۔کیونکہ انہیں معلوم تھا فرزند فاطمہ کی ہر نقل و حرکت اور ہر جنبش و سکون میں اسلام کی حیات کا ایک راز پوشیدہ ہے امام عالیمقام (ع) کی مکۂ معظمہ کی طرف روانگي اور حجۃ الحرام کے ایام سے تین چار ماہ قبل محترم مہینوں میں اللہ کے محفوظ و مامون گھر اور شہر میں قیام بظاہر حفظ جان و مال کے لئے کیاگیا ایک اقدام تھا مگر اس حکمت آمیز فیصلے میں بہت سے رموز پنہاں تھے جن کو بصیرت افروز نگاہیں دیکھ اور سمجھ رہی تھیں ۔مکۂ معظمہ ،جزیرۃ العرب بلکہ پورے عالم اسلام کا محور و مرکز تھا جہاں دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی مسلسل آمد و رفت رہتی تھی ۔حج کا فریضہ انجام دینے سے قطع نظر زمانۂ قدیم سے ہی یہاں چاروں طرف سے عرب قبائل تجارت و غیرہ کے لئے آتے جاتے تھے یہ مختلف الخیال افراد کا محل اجتماع تھا بڑے بڑے بازار لگتے اور شعر وسخن کی محفلیں جمتی تھیں خاص طور پر ذیقعدہ سے محرم الحرام تک مکہ طائف اور مدینہ کے درمیان بڑی گہماگہمی رہتی تھی ۔

امام حسین (ع) کی شخصیت سے لوگ پوری طرح واقف تھے اور امیر شام کی موت کے بعد ان کی طرف عالم اسلام کی نگاہیں ٹکی ہوئی تھیں اگر چہ لوگوں کے مذہبی احساسات مردہ ہوچکے تھے مگر سیاسی اور معاشرتی سرگرمیاں ان کے فیصلے کی منتظر تھیں کہ مطالبۂ بیعت کا حسین (ع) ابن علی (ع) کسی طرح جواب دیتے ہیں ؟ سیاسی اور مصلحتی سمجھوتا یا جنگ و مقابلے کے لئے فوجی تیاری؟ امام (ع) اگر چاہتے تو یمن ، طائف اور کوفہ و بصرہ سے ایک لشکر جمع کرلینا کوئی بڑا کام نہیں تھا مگر امام (ع) کو مسلمانون پر حکمرانی کی نہیں ان کی اصلاح اور بیداری کی فکر تھی وہ یزيدی لشکر کو نہیں مسلمانوں کے قلب و دماع تسخیر کرنا چاہتے تھے چنانچہ حج کے عظیم الشان اجتماع سے امام (ع) نے فائدہ اٹھایا اسلامی دنیا کی نمائندہ علمی اور ثقافتی شخصیتوں کو جمع کرکے اسلام کے دفاع اور باطل سے مقابلے کے سلسلے میں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں ایک خطبہ میں دین و مذہب کےدفاع سے متعلق یہودی اور عیسائی علماؤ دانشور کی لاپروائی پر سرزنش سے مربوط قرآنی آیات کی تلاوت کرکے خدا کی لعن و نفرین سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت کی امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی اہمیت واضح کی اور حاضرین کے علم و دانش اور مقام و حیثیت کا حوالہ دے کر ان کو الہی فرائض کی ادائگي پرابھارا اور آخر میں آسمان کی طرف ہ